سردار محمد ابراہیم خان | سابق صدر آزاد کشمیر | Sardar Muhammad Ibrahim Khan biography in urdu

سردار محمد ابراہیم خان (1915ء - 2003ء) 

سردار محمد ابراہیم خان 22 اپریل 1915ء کو پونچھ کے قصبہ راولاکوٹ کے قریب ہورنہ میرہ گاوں میں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق سدھن قبیلے سے تھا۔ ان کے والد کا نام محمد عالم خان تھا۔ سردار محمد ابراہیم خان نے 1933ء میں پونچھ شہر کے ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1938ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ 1940ء میں ریاستی حکومت نے ان کا تعلیمی وظیفہ مقرر کیا اور وہ بارایٹ لاء کے لئے انگلستان چلے گئے ۔ 


سردار محمد ابراہیم خان | سابق صدر آزاد کشمیر | Sardar Muhammad Ibrahim Khan biography in urdu
Sardar Muhammad Ibrahim Khan 


سرکاری ملازمت 

1942ء میں وہ بیرسٹری کا امتحان پاس کر کے وطن واپس آئے تو حکومت نے انہیں میرپور میں پبلک پراسیکیوٹر (پی پی ) تعینات کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد آپ کو ترقیاب کر کے بطور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل جموں میں تعینات کر دیا گیا۔ دورانِ ملازمت انہوں نے محسوس کیا کہ وہ سرکاری ملازمت کی پابندیاں برداشت نہیں کر سکیں گے ، لہذا انہوں نے ملازمت کو خیر باد کہ کر سیاسی میدان میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ 

مسلم کانفرنس میں شمولیت 

اکتوبر 1946ء کو وہ اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے سے مستعفی ہو گئے اور آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیار کر لی۔ پونچھ کے حلقہ انتخاب سے ریاستی اسمبلی پرجا سبھا کے ممبر خان محمد خان نے انہیں پیشکش کی کہ وہ جنوری 1947ء میں ہونے والے انتخابات میں ان کی جگہ اس حلقے سے مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیں ۔ چنانچہ سردار ابراہیم خان جنوری 1947ء میں کشمیر اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لے کر کامیاب ہو گئے ۔ ایک اعلی تعلیم یافتہ ممبر اسمبلی کی حیثیت سے انہوں نے اسمبلی میں باوقار کردار ادا کیا۔ اسمبلی میں وہ مسلم کانفرنس کے چیف و ہپ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔ 


1946ء میں مسلم کانفرنس کے کچھ سینئر راہنما سول نافرمانی کی تحریک کی پاداش میں پسِ دیوارِ زندان تھے، چونکہ سردار محمد ابراہیم خان گرفتار نہیں ہوئے تھے اس لئے انہوں نے اس نازک دور میں جماعتی سطح پر اہم ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ میرواعظ مولانا یوسف شاہ اور چوہدری حمید اللہ خان کی باہمی رقابت کے سبب چونکہ مسلم کانفرنس دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ جماعت کو اس انتشار سے بچانے کے لئے سردار محمد ابراہیم خان نے بنیادی کردار ادا کیا۔ 19 جولائی 1947ء کو ان کے گھر میں مسلم کانفرنس کا ایک اجلاس ہوا جس میں مہاراجہ ہری سنگھ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ریاست جموں کشمیر کا الحاق پاکستان سے کرے۔

پاکستان آمد 

 تقسیم ہند کے فوری بعد جب ریاست جموں کشمیر میں حالات بگڑنے لگے تو سردار ابراہیم خان اپنے ایک دوست راجہ عبدالحمید خان آف مظفرآباد کی رفاقت میں 25 اگست 1947 کو سرینگر سے نکل کر مظفرآباد کے راستے ایبٹ آباد پہنچ گئے. اسی اثناء میں کشمیر پر قبائلی حملے کی تیاریاں ہو رہی تھی ۔ اس سلسلے میں مری ایبٹ آباد اور کچھ دیگر مقامات پر صلاح مشورے جاری تھے۔ سردار ابراہیم خان بھی ان اجلاسوں میں شریک ہوئے۔ 4 اکتوبر 1947 کو خواجہ غلام نبی گلوکار کی سربراہی میں پیرس ہوٹل راولپنڈی کے مقام پر ایک انقلابی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کا ہیڈ کوارٹر مظفرآباد کو بتایا گیا۔ سردار ابراہیم خان اس حکومت میں وزیراعظم مقرر ہوئے۔21 اکتوبر کو پاکستان نے مُسلح قبائلیوں کے ذریعے ریاست پر حملہ کروا دیا، جس کے نتیجے میں کشمیر کا چھوٹا سا ٹکڑا ڈوگرہ فوجوں سے خالی ہو گیا۔ 

آزاد انقلابی حکومت کا قیام 

24 اکتوبر کو حکومت پاکستان کے ایماء پر سردار محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں آزاد انقلابی حکومت کی تشکیل نو عمل میں لائی گئی اور پلندری کو اس کا ہیڈ کوارٹر بنایا گیا۔ ان نازک ترین لمحات میں سردار محمد ابراہیم خان نے آزاد حکومت کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں ۔

جب اقوام متحدہ میں جانے سے منع کیا گیا. 

فروری 1948ء میں سردار ابراہیم خان کو قائد اعظم کے ایماء پر اقوام متحدہ میں بھیجا گیا تا کہ وہ سلامتی کونسل کے سامنے کشمیریوں کے نمائندے کی حیثیت سے اپنا کیس خود پیش کریں، لیکن اس وقت کے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے انہیں سلامتی کونسل کے سامنے پیش ہونے اور اپنا موقف پیش کرنے سے منع کر دیا۔ چنانچہ سردار صاحب نے پریس کانفرنسوں کے ذریعے دنیا کو اپنے موقف سے آگاہ کیا۔


 1948ء میں جب چوہدری غلام عباس اور مسلم کانفرنس کے دیگر راہنما مقبوضہ کشمیر سے رہا کر کے پاکستان بھیج دیئے گئے تو سردار ابراہیم خان نے ان راہنماؤں کو بحیثیت صدر آزاد کشمیر خوش آمدید کہا لیکن تھوڑے ہی عرصہ بعد مسلم کانفرنس کے ان راہنماؤں سے سردار ابراہیم خان کے اختلافات پیدا ہو گئے۔ اختلافات کا بنیادی سبب جماعتی قیادت اور کرسی صدارت تھی. مسلم کانفرنس دن بدن خلفشار کا شکار ہوتی گئی اور بالآخر تین دھڑوں میں تقسیم ہو گی جن میں عباس گروپ، ابراہیم گروپ اور میر واعظ گروپ شامل تھے۔

مدت صدارت 

1950 کو وزارت امور کشمیر نے سردار محمد ابراہیم خان کو صدارت سے الگ کر دیا۔ ان کی جگہ کرنل علی احمد شاہ کو صدر بنایا گیا۔ 1957 کو سردار ابراہیم خان دوسری بار آزاد کشمیر کے صدر نامزد ہوئے اور 1959 تک اس منصب پر فائز رہے۔ 1959ء میں حکومت پاکستان نے انہیں گرفتار کر کے سنٹرل جیل راولپنڈی میں قید کر دیا، جہاں سے 28 روز بعد انہیں رہا کیا گیا۔ آزاد کشمیر کے پہلے صدارتی انتخابات منعقدہ 1961ء میں انہوں نے حصہ لیا، لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ انہوں نے 1970 کے صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے ۔ 5 جون 1975ء سے 30 اکتوبر 1978ء تک وہ تیسری بار آزاد کشمیر کے صدر رہے۔ چوتھی بار 23 اگست 1996ء سے 24 اگست 2001ء تک وہ آخری بار اس منصب پر فائز رہے۔ چوتھی بار اس منصب سے فارغ ہونے کے بعد پیرانہ سالی کے باعث وہ اپنے گاؤں کوٹ متے خان میں قیام پذیر رہے ۔ 31 جون 2003 کو وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کو ان کے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کیا گیا۔ انہوں نے اپنی آخری آرام گاہ اپنی زندگی میں ہی تیار کروا رکھی تھی ۔

قلمی محاذ پر خدمات 

سردار ابراہیم خان نے آزاد کشمیر کی سیاست میں بہت متحرک کردار ادا کیا۔ پاکستان کی آمرانہ حکومتوں اور ان کی کشمیر دشمن پالیسیوں سے وہ ہمیشہ نالاں رہے۔ ایسی حکومتوں سے ان کے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصے تک انہوں نے آزاد کشمیر کی سیاست سے بھی کنارہ کشی اختیار کیے رکھی۔ سردار محمد ابراہیم خان نے میدان سیاست کے علاوہ قلمی محاذ پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ ان کی خودنوشت سوانح عمری” متاعِ زندگی“ 60 کی دہائی میں شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے” کشمیر کی جنگ آزادی“ کے عنوان سے اردو میں ایک اور کتاب لکھی اور پھر انگریزی میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک کتاب” Kashmir Saga “ لکھی ۔ اس کتاب میں انہوں نے ایک آزاد ریاست جموں کشمیر کو مسئلہ کشمیر کا پسندیدہ حل قرار دیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے