شیخ محمد عبداللہ | سیاست کشمیر کی نامور شخصیت | Sheikh Muhammad Abdullah Biography in urdu

شیخ محمد عبداللہ (1905ء - 1983ء)

شیخ محمد عبداللہ سرینگر کے ایک قریبی گاؤں ’’ سورہ “ میں دسمبر 1905ء کو پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کا نام محمد ابراہیم تھا، جو شالوں کے تاجر تھے۔ 

شیخ محمد عبداللہ | سیاست کشمیر کی نامور شخصیت | Sheikh Muhammad Abdullah Biography in urdu
Sheikh Mohammad Abdullah

تعلیم 

شیخ عبداللہ نے ابتدائی تعلیم مقامی پرائمری سکول سے حاصل کی۔ انہوں نے 1922ء میں گورنمنٹ ہائی سکول سرینگر سے میٹرک کا امتحان سائنس مضامین کے ساتھ پاس کیا اور 1924ء میں ایس پی کالج سرینگر سے ایف ایس سی کی سند حاصل کی۔  اس زمانے میں چونکہ ایس پی کالج میں ابھی بی ایس سی کی کلاسز کا اجراء نہیں ہوا تھا، اس لئے وہ بی ایس سی میں داخلہ کے لئے پرنس آف ویلز کالج جموں میں آئے، لیکن یہاں بھی محدود نشستوں کے سبب انہیں داخلہ نہ مل سکا۔ چنانچہ وہ لاہور آ گئے اور یہاں اسلامیہ کالج میں انہیں داخلہ مل گیا ۔ چنانچہ 1926ء میں انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی اور ایم ایس سی کے لیے علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ انہوں نے 1930ء میں علی گڑھ سے ایم ایس سی کیمسٹری( MSc Chemistry ) کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔

ریڈنگ روم کا قیام 

 زمانہ طالب علمی کے دوران لاہور اور علی گڑھ میں شیخ عبداللہ کو علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خان، مولانا شوکت علی، پنڈت جواہر لال نہرو، قائداعظم محمد علی جناح اور مہاتما گاندھی جیسی نامور شخصیات کو بہت قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا ۔ چنانچہ جب علی گڑھ سے ایم ایس سی کی ڈگری لے کر شیخ عبداللہ واپس سرینگر آۓ تو انہوں نے ریاست کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لئے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر 9 مئی 1930 کو سرینگر میں ریڈنگ روم ( دارالمطالعہ ) کا قیام عمل میں لایا۔ پنجاب اور علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہو کر آنے والے نیز سرینگر کے مسلمان طلباء اس ریڈنگ روم سے وابستہ ہو گئے۔ کچھ عرصہ بعد شیخ عبداللہ کو بحیثیت سائنس مدرس سرینگر کے ایک سکول میں ملازمت مل گئی۔

ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن

 اسی اثناء میں انہوں نے ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن جموں کے کارکنوں سے رابطہ کر کے سرینگر میں بھی اس ایسوسی ایشن کی ایک شاخ قائم کر لی تھی۔ شیخ محمد عبداللہ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود ان دونوں تنظیموں سے منسلک رہے اور سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ ان سرگرمیوں سے روکنے کے لئے حکومت نے انہیں مظفرآباد ٹرانسفر کر دیا، لیکن شیخ عبداللہ ملازمت سے مستعفی ہو گئے اور مکمل طور پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے۔

سیاست اور ابتدائی گرفتاریاں 

 اس عرصے میں سرینگر اور جموں میں توہین مذہب کے کچھ واقعات پیش آئے، جن کے خلاف ہونے والے ردعمل میں شیخ عبداللہ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ شیخ عبداللہ کے اس کردار کو دیکھتے ہوئے میرواعظ مولانا یوسف شاہ اور ان کے خاندان نے انہیں ریاستی عوام کا متفقہ سیاسی قائد قرار دیا اور مسلمانان ریاست سے اپیل کی کہ وہ شیخ عبداللہ کی قیادت میں آگے بڑھیں۔ 

13 جولائی 1931ء کو سنٹرل جیل سرینگر کے باہر ریاستی پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں 22 مسلمانوں کی شہادت کے بعد مسلم قائدین میں سب سے پہلے شیخ محمد عبداللہ کو گرفتار کیا گیا۔ یہ ان کی سیاسی زندگی کی پہلی گرفتاری تھی. یکم اگست 1931ء کو انہیں حکومت نے عوامی دباؤ کے نتیجے میں دیگر گرفتار راہنماؤں سمیت رہا کر دیا۔ اس رہائی کے بعد شیخ عبداللہ” شیر کشمیر“ کے لقب سے مشہور ہوئے۔ ان کی دوسری گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب ریاستی وزیراعظم ہری کشن کول اور ان کے مابین 21 ستمبر کو تلخ کلامی ہوئی۔ شیخ محمد عبداللہ کی اس دوسری گرفتاری نے انہیں سیاسی قائد کی حیثیت سے زبردست شہرت عطا کی ۔

مسلم کانفرنس کا قیام 

 کچھ عرصہ بعد جب شیخ عبداللہ رہا ہوئے تو انہوں نے پنجاب کے مسلم زعماء کے مشورے سے اور وادی کشمیر اور جموں کے متحرک مسلم راہنماؤں کے تعاون سے 1932ء میں مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں لایا۔آپ کو مسلم کانفرنس کا صدر منتخب کیا گیا. مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں آنے کے بعد قیادت اور عوامی نمائندگی کے مسئلے پر شیخ عبداللہ کو سب سے پہلے میر واعظ خاندان کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ میرواعظ مولانا یوسف شاہ اور ان کے حامیوں نے مسلم کانفرنس سے علیحدگی اختیار کر کے” آزاد پارٹی مسلم کانفرنس“ کے نام سے الگ سیاسی جماعت قائم کر لی لیکن اس سے شیخ عبداللہ کی سیاسی حیثیت کو کوئی نقصان نہ ہوا۔ اس زمانے میں شیخ عبداللہ نے آل انڈیا نیشنل کانگریس اور اس کے قائدین سے اپنے روابط استوار کیے ۔

نیشنل کانفرنس کا قیام 

1939ء میں انہوں نے سیاسی جدوجہد میں ریاست کے غیر مسلموں کو بھی شامل کرنے کے لئے مسلم کانفرنس کا نام بدل کر نیشنل کانفرنس کا نام دیا. نیشنل کانفرنس کا قیام عمل میں آتے ہی شیخ عبداللہ کی ریاستی مسلمانوں میں غیر متنازع حیثیت ختم ہو گئی اور مسلمانوں کا ایک مؤثر طبقہ ان کے خلاف ہو گیا۔ اسی طبقے نے 1942ء میں دوبارہ مسلم کانفرنس کا احیاء عمل میں لایا۔ 1944ء میں شیخ عبداللہ کے سیاسی نظریات میں ایک اور تبدیلی آئی اور انہوں نے کمیونسٹ تحریک سے متاثر ہو کر” نیا کشمیر“ کا منشور جاری کیا۔ 1946ء میں انہوں نے” کشمیر چھوڑ دو تحریک “ شروع کی ۔ اس تحریک میں گرفتاری کے سبب انہیں زبردست شہرت حاصل ہوئی ۔ اگرچہ تحریک ناکام ہو گئی لیکن اس سے شیخ محمد عبداللہ نے ذاتی مفاد ضرور حاصل کیا۔ اس تحریک کے نتیجے میں کانگریس کھل کر ریاستی معاملات میں مداخلت کرنے لگی اور نہرو نے شیخ عبداللہ کا نہ صرف مقدمہ لڑا ، بلکہ انہیں اپنا بہترین دوست اور ساتھی قرار دیا۔ اس تحریک میں شیخ محمد عبداللہ گرفتار ہو گئے اور ان پر مقدمہ بغاوت قائم ہوا۔ وہ 16 ماہ تک قید رہے. 

1947 ریاست کا منتظم اعلی 

1947ء کو ریاست جموں و کشمیر تقسیم کے دہانے پر کھڑی تھی۔ 21 اکتوبر 1947 کو ریاست جموں کشمیر پر پاکستان نے قبائلیوں سے حملہ کروا دیا جس کے نتیجے میں 26 اکتوبر کو مہاراجہ ہری سنگھ ریاست کے دارالحکومت سرینگر کو چھوڑ کر جموں چلا گیا اور اس نے قبائلی حملہ آوروں سے ریاست کو بچانے کے لئے ہندوستان سے فوجی مدد مانگ لی۔ 27 اکتوبر کو ہندوستان کی افواج کشمیر میں داخل ہوئیں ۔ اب ریاست کے حالات مہاراجہ کے ہاتھ سے نکل گئے تو اس نے 29 اکتوبر 1947 کو شیخ عبداللہ کو ریاست کا منتظم اعلی مقرر کیا اور خود اقدار سے الگ ہو گیا۔ شیخ عبداللہ کے ایماء پر ریاستی وزیراعظم مہر چند مہاجن اور مہاراجہ ہری سنگھ کو ہندوستان نے ریاستی معاملات سے ہمیشہ کے لئے الگ کر دیا۔ 

اقوام متحدہ اور شیخ عبداللہ 

1948ء کو جب ہندوستان نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں پیش کیا تو اس نے کشمیری نمائندے کی حیثیت سے شیخ محمد عبداللہ کو اقوام متحدہ میں بھیجا۔ اقوام متحدہ میں جب مسئلہ کشمیر پیچیدہ ہو گیا تو شیخ محمد عبداللہ نے کشمیریوں کے لئے رائے شماری کا مطالبہ شروع کر دیا، چنانچہ اسی پاداش میں انہیں 8 اگست 1953 کو وزارت عظمیٰ کی کرسی سے ہٹا کر بھارت نے جیل میں ڈال دیا۔ 

11 سال گرفتاری کے بعد پاکستان آمد 

فروری 1958ء میں انہیں رہا کیا گیا، لیکن چند ماه بعد دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور پھر وہ 1964ء تک گرفتار رہے۔ رہائی کے بعد ان کی ملاقات پنڈت جواہر لال نہرو سے دہلی میں ہوئی تو پنڈت نہرو نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اگر پاکستان جا کر پاکستان کو کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے پر رضامند کر لیں تو بھارت کشمیر سے اپنی افواج نکال لے گا، چنانچہ شیخ محمد عبداللہ 24 مئی 1964ء کو راولپنڈی پہنچے۔ پاکستانی اور کشمیری حکام سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں، لیکن ابھی تین روز ہی گزرے تھے کہ 27 مئی 1964 ء کو پنڈت جواہر لال نہرو انتقال کر گئے، چنانچہ شیخ محمد عبداللہ اپنا مشن ادھورا چھوڑ کر 20 مئی 1964 کو واپس دہلی چلے گئے۔

حجاز مقدس روانگی 

مارچ 1965ء کو شیخ عبداللہ حج کی غرض سے حجاز مقدس گئے، جہاں سے وہ کچھ دوسرے ممالک میں بھی چلے گئے اور وہاں انہوں نے کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھائی۔ چنانچہ بھارت نے انہیں فوری واپس آنے کی ہدایت کی ، وہ 7 مئی 1965ء کو پالم ایئرپورٹ دہلی پہنچے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس بار وہ 25 جنوری 1968ء تک نظر بند رہے۔ 

ہندوستان سے دوستانہ تعلقات اور کشمیر ایکارڈ

1971ء کی پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں جب پاکستان دولخت ہوگیا تو شیخ عبداللہ کو سخت مایوسی ہوئی چنانچہ انہوں نے اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے کے لئے ایک بار پھر ہندوستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی سے انہوں نے کئی ملاقاتیں کیں، چنانچہ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں نومبر 1974ء کو کشمیر حکومت اور بھارت سرکار کے مابین کشمیر ایکارڈ ہوا، جس کے تحت شیخ عبداللہ نے کشمیر پر بھارتی قبضے کو تسلیم کرلیا اور حق خودارادیت کے مطالبے سے دستبردار ہو گئے ۔

وزیراعلیٰ

چنانچہ وہ فروری 1975ء کو کشمیر کے وزیراعلیٰ بنا دیئے گئے۔ 1977ء میں کشمیر اسمبلی کے انتخابات ہوئے، جس میں نیشنل کانفرنس نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ چنانچہ ایک بار پھر شیخ عبداللہ وزیراعلیٰ بن گئے ۔ 

وفات 

8 ستمبر 1983ء کو ان کا انتقال ہو گیا اور جھیل ڈھل کے کنارے نسیم باغ میں انہیں دفن کیا گیا۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے